سینٹ کی قائمہ کمیٹی نیشنل ریگولیشن و سروسز کااجلاس، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے کمپنیوں کو لسٹ میں شامل کرنیکا فارم مکمل نہ ہونے و ایس آر اوکے اجراء سے قبل کمپنیوں کی جانب سے 10 ہزار روپے ان لسٹ فیس جمع کرانے پرتشویش کااظہار، فارم مکمل نہ ہونے و ایس آر او کے اجراء سے قبل کمپنیوں کی جانب سے فیس جمع کرانے کے معاملے کی تحقیقات کروا کر کمیٹی کو رپورٹ دی جائے گی، وزیر نیشنل ریگولیش اینڈ سروس کی یقین دہانی،کمیٹی کا جعلی ادویات تیار کرنے والی فیکٹریوں میں چھاپے مار کر ملوث افراد کو گرفتار کرنے کی ہدایت

پیر 22 اپریل 2013 21:36

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔22اپریل۔ 2013ء)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ریگولیشن اور سروسز نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے کمپنیوں کو ان لسٹ کرنے کا فارم مکمل نہ ہونے اور ایس آر اوکے اجراء سے قبل کمپنیوں کی جانب سے 10 ہزار روپے ان لسٹ فیس جمع کرانے پرتشویش کااظہار کیاہے،وزیر نیشنل ریگولیش اینڈ سروس نے کمیٹی کو یقین دلایاہے کہ فارم مکمل نہ ہونے اور ایس آر او کے اجراء سے قبل کمپنیوں کی جانب سے فیس جمع کرانے کے معاملے کی تحقیقات کروا کر کمیٹی کو رپورٹ دی جائے گی، کمیٹی نے جعلی ادویات تیار کرنے والی فیکٹریوں میں چھاپے مار کر ملوث افراد کو گرفتار کرنے کی ہدایت کر دی۔

پیرکو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ریگولیشن اور سروسز نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر ظفر علی شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں ہربل کی ادویات تیارکرنے والے شراکت داروں نے بریفنگ دی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایسی ہربل دوا تیار کیجائے جس سے ملک کا قرضہ ختم ہو جائے۔ ڈاکٹر حکیم انیس مفتی نے کہا کہ ابھی تک ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے مختلف کمپنیوں کی رجسٹریشن کے لئے فارم کی تیاری مکمل نہیں ہوئی اور ایس آر او بھی جاری نہیں ہوا مگر بعض کمپنیوں سے فیس جمع بھی کروائی ہے۔

وزارت کے حکام نے بتایا کہ وزارتفارم کی تیاری پر کام کر رہی ہے تاہم کچھ کمپنیوں نے رجسٹر نمبر ایک حاصل کرنے کیلئے پہلے ہی فیس جمع کروا دی ہے۔ اس حوالے سے وزارت نے کوئی خط نہیں لکھا۔ کمیٹی نے کہاکہ قواعد و ضوابط بنائے بغیر ان لسٹ کی مد میں 10,10 ہزار روپے فیس لینا قابل اعتراض ہے۔ سیکرٹری نیشنل ریگولیشن نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری خود اپنے پیسے بناتی ہے۔

فیس کے قواعد مکمل نہیں ابھی ایس آر او جاری ہو گا۔ قانون بنے گا ابھی اس حوالے سے معاملات طے ہو رہے ہیں۔ وزیرنیشنل ریگولیشن شہزاد جمال نے کہا کہ وزارت پہلے فارم اور فیس جمع کروانے والے معاملے کی تحقیقات کر کے رپورٹ کمیٹی کو جمع کروائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سٹرائیڈ اور ویاگرا کی جعلی ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کے خلاف چھاپے مارکر لوگوں کوگرفتار کیاجائے۔