سپریم کورٹ نے نگران حکومت کے تقرر، تبادلوں، ترقیوں اور ڈیپوٹیشن پر تعیناتیوں کے تمام احکامات معطل کردئیے، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ،نگران وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری ،سیکرٹری قانون اور صحت کو نوٹس جاری ، فہرستیں اور جواب طلب ،وفاقی محتسب کے تقرر بارے سنگین الزامات ہیں ،اگر الزامات غلط ثابت ہوئے تو ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے عادل گیلانی کو سنگین نتائج بھگتنا ہونگے ،سپریم کورٹ کا تحریری آرڈر ،پٹیشنر نے کچھ برطرفیوں کی نشاندہی کی ہے، بلوچستان سے 100 سے زائد افسران کی وفاق میں ڈیپوٹیشن پر تعیناتی میں قواعد و ضوابط کی پاسداری نہیں کی گئی، چار دن پہلے وزارت خزانہ میں ایک ایڈوائز کو بغیر کسی وجہ کے نکالا دیا ، اس کیس میں اصول وضع کئے جائیں گے، عدالت جائزہ لے گی کہ آیا نگران حکومت نے اپنے مینڈیٹ اور اختیارات سے تجاوز تو نہیں کیا،چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے نگران دور حکومت میں تقرر، تبادلوں، ترقیوں اور ڈیپوٹیشن پر تعیناتیوں بارے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس ،کیس کا فیصلہ جمعہ کو سنایا جائیگا، سپریم کورٹ نے وفاق کے موقف کے لئے اٹارنی جنرل سے بھی جواب طلب کرلیا ، عدالت کا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے عادل گیلانی کو جمعہ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم

منگل 4 جون 2013 23:20

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔4جون۔2013ء) سپریم کورٹ نے نگران حکومت کے تقرر، تبادلوں، ترقیوں اور ڈیپوٹیشن پر تعیناتیوں کے تمام احکامات معطل کرکے سیکرٹری سٹیبلشمنٹ اور متعلقہ سیکرٹریز سے فہرستیں اور جواب طلب کر لیا ،سپریم کورٹ نے اپنے تحریری آرڈر میں کہا کہ وفاقی محتسب کے تقرر کے حوالے سے سنگین الزامات ہیں اگر الزامات غلط ثابت ہوئے تو ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے عادل گیلانی کو سنگین نتائج بھگتنا ہونگے ،چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ پٹیشنر نے کچھ برطرفیوں کی نشاندہی کی ہے، بلوچستان سے سو سے زائد افسران کی وفاق میں ڈیپوٹیشن پر تعیناتی میں قواعد و ضوابط کی پاسداری نہیں کی گئی، چار دن پہلے وزارت خزانہ میں ایک ایڈوائز کو بغیر کسی وجہ کے نکالا دیا ، اس کیس میں اصول وضع کئے جائیں گے، عدالت جائزہ لے گی کہ آیا نگران حکومت نے اپنے مینڈیٹ اور اختیارات سے تجاوز تو نہیں کیا۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ نے وفاق کے موقف کے لئے اٹارنی جنرل سے بھی جواب طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے عادل گیلانی کو جمعہ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ کیس کا فیصلہ جمعہ کو سنایا جائے گا۔منگل کو چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز احمد چوہدری پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے نگران حکومت کی جانب سے کی جانے والی تقرریوں و تبادلوں کے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ نگراں حکومت نے بیشتر تقرریوں اور تبادلوں کے احکامات واپس لے لیے ہیں،فقیر کھوکھر کو اینٹی ڈیویلپنگ کا چیئر مین 16 مئی کو لگایا گیا تھا،22 مئی کو انہوں نے استعفیٰ دے دیا، درخواست گزار خواجہ آصف نے عدالت کو بتایا کہ نگراں حکومت نے صوبہ بلوچستان میں سینکڑوں افسران تعینات کیے جا رہے ہیں، چیف جسٹس نے خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی حکومت آنے والی ہے ،میرٹ پر تعیناتیاں کریں، جسٹس اعجاز احمد چوہدری نے کہا کہ تقرریوں اور تعیناتیوں کے حوالے سے اصول وضع کر نا چاہتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے پوچھا جائے گا کہ عدالتی احکامات پر عمل کیوں نہیں کیا، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ آئندہ پیشی پر نگراں حکومت کے دور میں تقرریوں اور تبادلوں کا سارا ریکارڈ عدالت میں پیش کریں، اٹارنی جنرل کو ان تمام افراد کی لسٹ فراہم کر نے کی ہدایت کی گئی جن کی تقرری تبادلہ کیا گیا ہے، اس درخواست کا فیصلہ آنے تک نگراں حکومت کسی بھی قسم کی تقرری یا تبادلہ کر نے کا حکم نہیں دے سکتی، عدالت نے نگراں دور حکومت میں کی جانے والی تمام تقرریوں اور تبادلوں کے احکامات معطل کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست کا فیصلہ 6 جون کو سنائیں گے۔

عدالت نے اپنے تحریری آرڈرز میں کہا ہے کہ وفاقی محتسب کے تقرر بارے سنگین الزامات ہیں ،اگر الزامات غلط ثابت ہوئے تو ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے عادل گیلانی کو سنگین نتائج بھگتنا ہونگے ۔ دوران ریمارکس چیف جسٹس نے کہا کہ پٹیشنر نے کچھ برطرفیوں کی نشاندہی کی ہے، بلوچستان سے 100 سے زائد افسران کی وفاق میں ڈیپوٹیشن پر تعیناتی میں قواعد و ضوابط کی پاسداری نہیں کی گئی، چار دن پہلے وزارت خزانہ میں ایک ایڈوائز کو بغیر کسی وجہ کے نکالا دیا ، اس کیس میں اصول وضع کئے جائیں گے، عدالت جائزہ لے گی کہ آیا نگران حکومت نے اپنے مینڈیٹ اور اختیارات سے تجاوز تو نہیں کیا۔

سپریم کورٹ نے وفاق کے موقف کیلئے اٹارنی جنرل سے بھی جواب طلب کرلیا جبکہ عدالت کا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے عادل گیلانی کو جمعہ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیدیا۔