پولیو ٹیموں کی شمالی علاقوں تک رسائی کے بعد پاکستان میں رواں سال پولیو کے کیسز میں 70فیصد کمی ہوئی ہے ‘ حکام

جمعرات 4 جون 2015 13:36

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 04 جون۔2015ء) پاکستان میں رواں سال پولیو کے کیسز میں 70فیصد کمی ہوئی ہے جو پاکستان کے شمالی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن سے صورتحال میں بہتری کا نتیجہ ہے ۔حکام کے مطابق 2015ء میں اب تک پولیو کے 25کیس سامنے آئے ہیں جبکہ گزشتہ برس اکتوبر میں حکام کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 15برسوں میں پولیو کے کیسوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی جس کی ایک بڑی وجہ شدت پسندوں کے حملے تھے۔

اس وقت ملک بھر میں پولیو کیسز کے تعداد 200سے زائد تھی۔اکتوبر میں یہ تعداد 2001ء میں سامنے آنے والے 199سے زیادہ اور 1999ء میں 558پولیو کیسز سے کم تھی۔پولیو کے بیشتر کیس شمال مغرب میں واقع قبائلی علاقوں میں سامنے آئے ہیں جہاں شدت پسندوں کی جانب سے انسداد پولیو ٹیموں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

(جاری ہے)

شدت پسندوں کی جانب سے ڈاکٹروں پر جاسوسی کا الزام عائد کیا جاتا ہے اور اسے مسلمانوں کے خلاف مغرب کی سازش قرار دیا جاتا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق وزیراعظم کے پولیو پروگرام کی مشیر عائشہ رضا کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے وقت صرف ہوا ہے اور اس کا اثر پولیو پروگرام میں بھی ظاہر ہوا ہے ۔پولیو سے شدید متاثرہ علاقوں سے حاصل کیے گئے نمونے جو کئی ماہ تک پازیٹیو رہتے تھے اب ان کے تنائج دوبارہ منفی آنا شروع ہوگئے ہیں۔وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں اس سال صرف سات نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ کراچی سے کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔

عائشہ رضا نے بتایا کہ ان علاقوں میں فوج انتہائی مددگار ثابت ہوئی ہے۔ان کی مدد سے اور متحدہ عرب امارات کے مالی تعاون سے ہم شدید متاثرہ علاقوں میں انسداد پولیو مہم پھیلانے میں کامیاب رہے ہیں۔دو سال سے زائد عرصے کے بعد ہمیں وزیرستان کی آبادی تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ اب ہم کراچی کے کچھ غیر محفوظ علاقوں تک بھی رسائی حاصل کر رہے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں پولیو ٹیموں پر حملوں میں واضح کمی ہوئی ہے۔ ان حملوں میں ملوث متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوان :